ہوناور:16/ نومبر (ایس اؤنیوز)اسکولوں کے قریب اور جہاں دیکھو وہاں غیر قانونی طورپر شراب بیچی جارہی ہے، ایکسائز محکمہ ہر مہینہ ہفتہ وصول کرتے ہوئے خاموش رہنے کا الزام لگاتے ہوئے تعلقہ پنچایت ممبرا ن نے اپنی برہمی کااظہار کیا۔
بدھ کو منعقدہ تعلقہ پنچایت کے عام اجلاس میں ممبران نے ایکسائز محکمہ کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ کیا یہی وجہ ہے کہ وہ پنچایت کی میٹنگو ں میں بھی حاضر نہیں ہوتے۔ ایسے افسران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کامطالبہ کیا۔
میٹنگ میں موجود ایکسائز افسر نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ میں عملے کی قلت ہے جس کی بنا پر ہرجگہ چھاپہ مارنا محال ہونے کی بات کہی۔ تو ممبران آگ بگولہ ہوگئے اور محکمہ ایمانداری سے کام نہیں کرنے کا الزام لگایا۔ اس موقع پر بعض ممبران نے اسکولوں ،کالج سمیت قومی شاہراہ اور عوامی چہل پہل علاقوں میں شراب فروخت کاری کے خلاف کارروائی کی مانگ کی۔
اسی طرح میٹنگ میں خستہ حالات میں موجود اسکولوں کی مرمت کے لئے امداد منظور نہیں کئے جانے، ڈھنگ سے کھاد سپلائی نہیں کرنے ، جراثیم کش دوافروخت کے لائسنس کو 6ماہ بعد بھی تجدید نہیں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مناسب کارروائی کی بات کہی۔ میٹنگ میں موجود متعلقہ افسران نے وضاحت کرتےہوئے کہاکہ نگربستی کیری اسپتال کے لئے ڈاکٹر عہدے کو منظوری ملی ہے۔ ایس ایس ایل سی امتحانات میں بہتری کے لئے منتخب اساتذہ کو مشق کے لئے تعلیمی سفر کا اہتمام کیا جائے گا۔ جانوروں کی بیماری پر خاصی توجہ دینے کی بات کہی۔ تعلقہ پنچایت صدر الاس نائک، اسٹانڈنگ کمیٹی چیرمن قاضی محمد ارشاد موجود تھے۔ ممبران گنپیا گوڈا، آر پی نائک، انیا نائک، تکارام نائک، لوکیش نائک، لکشمی گونڈ بحث میں حصہ لیا۔